سرینگر، 4 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)جموں و کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہندواڑا میں دہشت گردوں کے ساتھ گزشتہ تین دن سے چل رہے تصادم میں سکیورٹی کو کامیابی ملی ہے۔اس انکاؤنٹر میں دو دہشت گردوں کو مار گرایا گیا۔وہیں تصادم میں پانچ سیکورٹی شہید ہو گئے۔انکاؤنٹر کے دوران شہیدوں میں تین سی آر پی ایف جوان اور دو جموں و کشمیر پولیس کے جوان شامل ہیں۔وزارت دفاع کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے اتوار کو کہاکہ دو دہشت گرد مارے گئے،تصادم اب بند ہو گیا ہے، لیکن سرچ مہم چل رہی ہے۔ ہلاک دہشت گردوں کی اب شناخت کی جانی ہے۔کپواڑہ ضلع کے ہندواڑا کے باباگڈ گاؤں میں جمعہ کو تصادم شروع ہوا،دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیر لیا، جس کے بعد انکاؤنٹر شروع ہوا۔
تصادم کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے کشمیر کے آئی جی ایس پی پانی نے کہاکہ آپریشن ختم ہو گیا ہے،حتمی سرچ آپریشن چل رہا ہے،تصادم مقام سے ہمیں دو دہشت گردوں کی لاشیں ملی ہیں،ان کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے،طویل چلے آپریشن کی وجہ مشکل جغرافیائی محل وقوع اور شہریوں کی بڑی آبادی ہے۔انکاؤنٹر میں ہم نے سی آر پی ایف کے تین اور جموں و کشمیر پولیس کے دو جوانوں کو کھو دیا۔
سی آر پی ایف کے دو جوان اور دو پولیس اہلکار جمعہ کو اس وقت شہید ہو گئے، جب ایک دہشت گرد جسے مردہ سمجھا گیا تھا اچانک گھر کے ملبے سے اٹھا اور سیکورٹی فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کرنے لگا۔پولیس نے کہا کہ ایک زخمی سی آر پی ایف جوان کی اتوار کو ہسپتال میں موت ہو گئی،تصادم میں سات دیگر سیکورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں،سیکورٹی فورسز کے ساتھ مظاہرین کی جدوجہد میں ایک شہری کی بھی موت ہو گئی تھی،مظاہرین مہم میں رکاوٹ ڈال رہے تھے۔ہندوستانی فوج کی ناردن کمانڈ نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ کپواڑہ میں چل رہے آپریشن باباگڈ میں دو دہشت گردوں کو ڈھیر کر دیا گیا ہے،تصادم مقام پر جوائنٹ آپریشن ابھی جاری ہے۔ معلومات کے مطابق، دہشت گرد ایک گھر میں چھپے ہوئے تھے۔
دہشت گردوں سے تصادم کے دوران سی آر پی ایف کی 92 ویں بٹالین میں تعینات اترپردیش کے مودينگر کے ونود کمار شہید ہو گئے تھے۔ونود جمعہ کو دہشت گردوں کی گولی لگنے کے بعد زخمی ہو گئے تھے، جس کے بعد انہیں ان کے ساتھی اسپتال لے جانے لگے، تبھی راستے میں وہ شہید ہو گئے۔ونود کے بھائی راجندر نے بتایا انہیں جمعہ کی رات 8 بجکر 30 منٹ پر شہادت کی اطلاع ملی تھی۔راجندر بتاتے ہیں کہ ونود 8 فروری کو ہی ڈیوٹی پر واپس آئے تھے۔